آسٹریلیا میں ہونے والی فارمولا ون آسٹریلین گراں پری سے قبل سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ریس ویک اینڈ سے پہلے ہونے والی دوسری پریس کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی جس میں کئی اہم ڈرائیورز نے سیزن اور اپنی تیاریوں کے بارے میں گفتگو کی۔
سات مرتبہ کے عالمی چیمپئن لوئس ہیملٹن اس موقع پر نہایت پُرسکون اور پُراعتماد نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فراری ٹیم کے ساتھ خود کو پہلے سے زیادہ خوش اور مطمئن محسوس کر رہے ہیں۔ ہیملٹن کے مطابق آف سیزن ان کے لیے بہت مثبت رہا اور انہوں نے کرسمس کے بعد سے سخت ٹریننگ کے ساتھ اپنی ذہنی مضبوطی پر بھی کام کیا ہے۔
ہیملٹن نے اعتراف کیا کہ گزشتہ سیزن میں وہ کچھ مشکلات کا شکار رہے اور ایک وقت پر انہیں محسوس ہوا کہ وہ اپنی اصل پہچان سے دور ہو گئے تھے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس سیزن میں ایسا دوبارہ نہیں ہوگا۔
دوسری جانب آسٹریلوی ڈرائیور آسکر پیاسٹری نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر ریس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مقامی شائقین کی حمایت بہت خاص ہوتی ہے لیکن اس سے ان کے کھیلنے کے انداز میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
پیاسٹری نے کہا:
“ہوم ریس ہونے کی وجہ سے کوئی اضافی پوائنٹس نہیں ملتے، اس لیے ویک اینڈ کے دوران بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے ہمارا طریقہ وہی رہتا ہے۔”
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ سال ٹیم کو کچھ مشکل لمحات کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن میک لارن ٹیم کے سی ای او زیک براؤن اور ٹیم پرنسپل اینڈریا اسٹیلا کے ساتھ ان کے تعلقات اب بھی مضبوط اور مثبت ہیں۔
نئے سیزن میں آنے والے تکنیکی قوانین کے بارے میں پیاسٹری کا کہنا تھا کہ اس سال ٹیموں کے لیے مختلف ٹریکس پر کار کی کارکردگی کو سمجھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ ان کے مطابق اب انجن کی کارکردگی مختلف سرکٹس پر حکمت عملی کو زیادہ متاثر کرے گی۔
ہیملٹن نے بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلیاں فارمولا ون کی تاریخ میں سب سے مشکل تبدیلیوں میں سے ایک ہیں۔
ان کا کہنا تھا:
“میں اپنے کیریئر میں کئی رول چینجز دیکھ چکا ہوں، لیکن یہ تبدیلیاں واقعی بہت بڑا چیلنج ہوں گی۔”
ٹیموں کی موجودہ کارکردگی کے بارے میں پیاسٹری نے کہا کہ ٹیسٹنگ کے اوقات سے مکمل اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے، لیکن فراری کی ریس سیمولیشن خاصی مضبوط نظر آئی جبکہ مرسڈیز نے بھی بارسلونا میں اچھی رفتار دکھائی۔
پیاسٹری کے مطابق میک لارن بھی مقابلے میں موجود ہے اور اگر ٹیم مزید کارکردگی بہتر کر لیتی ہے تو وہ فرنٹ لائن ٹیموں کو چیلنج کر سکتی ہے۔
ادھر 18 سالہ نوجوان ڈرائیور ارویڈ لنڈبلیڈ نے بھی پریس کانفرنس میں اعتماد کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ فارمولا ون کا ماحول فارمولا ٹو اور فارمولا تھری کے مقابلے میں کہیں زیادہ مصروف اور دباؤ والا ہوتا ہے، لیکن وہ اپنی پوری توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔
لنڈبلیڈ نے کہا کہ وہ کوالیفائنگ اور ریس دونوں کے لیے بے حد پرجوش ہیں۔
آسٹریلین گراں پری کے آغاز کے ساتھ ہی نئے فارمولا ون سیزن کا باقاعدہ آغاز ہوگا، جس میں ٹیموں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے
